سمائی[1]
معنی
١ - گنجائش، کھیت۔ "اردو میں ان سب زبانوں کے الفاظ کی سمائی قیاس اور انداز کہیں بڑھ کر ہے۔" ( ١٩٨٥ء، کتب لغت کا تحقیقی و لسانی جائزہ، ١٠:٢ ) ٢ - وسعت، پھیلاؤ۔ "ذرہ آسا اور قطرہ تمثال ہستی میں صحرا کی وسعت اور دریا کی سی سمائی پیدا کر دیتا ہے۔" ( ١٩٨٧ء، غالب فن اور شخصیت، ١٤١ ) ٣ - حوصلہ، طاقت، ظرف۔ "اس کے فکرویقین کے لحاظ سے ہوتی ہے۔" ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی، نومبر، ٢٤ ) ٤ - تحمل، برداشت۔ "پہلے جو بات ناگوار خاطر ہوتی تھی اب اس کی سمائی ہونے لگی۔" ( ١٩٢٠ء، لخت جگر، ٧٥:١ )
اشتقاق
پراکرت زبان سے مصدر 'سمانا' کا حاصل مصدر ہے اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گنجائش، کھیت۔ "اردو میں ان سب زبانوں کے الفاظ کی سمائی قیاس اور انداز کہیں بڑھ کر ہے۔" ( ١٩٨٥ء، کتب لغت کا تحقیقی و لسانی جائزہ، ١٠:٢ ) ٢ - وسعت، پھیلاؤ۔ "ذرہ آسا اور قطرہ تمثال ہستی میں صحرا کی وسعت اور دریا کی سی سمائی پیدا کر دیتا ہے۔" ( ١٩٨٧ء، غالب فن اور شخصیت، ١٤١ ) ٣ - حوصلہ، طاقت، ظرف۔ "اس کے فکرویقین کے لحاظ سے ہوتی ہے۔" ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی، نومبر، ٢٤ ) ٤ - تحمل، برداشت۔ "پہلے جو بات ناگوار خاطر ہوتی تھی اب اس کی سمائی ہونے لگی۔" ( ١٩٢٠ء، لخت جگر، ٧٥:١ )